Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

ناظم جعفری

نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

ناظم جعفری

MORE BYناظم جعفری

    نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

    ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں

    ہر ایک بات پہ خاموش رہ نہیں سکتے

    عزیزو ہم بھی تو منہ میں زبان رکھتے ہیں

    بزرگ دے کے گئے تھے جسے وراثت میں

    وہی مزاج وہی آن بان رکھتے ہیں

    زمانہ سیکھ لے ہم سے فن سپہ گیری

    ہنسی کے تیر لبوں کی کمان رکھتے ہیں

    شکست پائی ہے جس سے ہر ایک دریا نے

    لبوں پہ پیاس کی ایسی چٹان رکھتے ہیں

    بلندیاں ہیں عبارت انہیں پرندوں سے

    جو آسمان سے اونچی اڑان رکھتے ہیں

    بس اتنی بات پہ خائف ہیں گلستاں والے

    قفس نصیب بڑا خاندان رکھتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے