نہ کوئی تیر نہ کوئی کمان باقی ہے

ناز قادری

نہ کوئی تیر نہ کوئی کمان باقی ہے

ناز قادری

MORE BYناز قادری

    نہ کوئی تیر نہ کوئی کمان باقی ہے

    مگر وہ اک نگہ مہربان باقی ہے

    اڑا کے لے گئیں ہجرت کی آندھیاں سب کچھ

    بس اپنے سر پہ کھلا آسمان باقی ہے

    اک اور تیر چلا اپنا عہد پورا کر

    ابھی پرندے میں تھوڑی سی جان باقی ہے

    فضا میں گونج رہی ہے صدائے مظلوماں

    زباں خموش ہے لیکن بیان باقی ہے

    مٹا سکا نہ کبھی وقت کا غبار اسے

    فصیل شب پہ لہو کا نشان باقی ہے

    ہمارے شہر پہ ویرانیاں مسلط ہیں

    مکیں تو کوئی نہیں ہے مکان باقی ہے

    نفس نفس ہے وہی آزمائشوں کا سفر

    قدم قدم پہ وہی امتحان باقی ہے

    مثل یہ سچ ہے کہ رسی کے بل نہیں جاتے

    اکھڑ چکی ہے ہوا آن بان باقی ہے

    عطا ہوئی ہے ہمیں ایسی جرأت پرواز

    کہ پر شکستہ ہیں لیکن اڑان باقی ہے

    کسی کنارے لگا دے گی مہربان ہوا

    شکستہ ناؤ سہی بادبان باقی ہے

    دعا کے ہاتھ بھی شل ہو گئے مگر اے نازؔ

    وہی زمین وہی آسمان باقی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Lamhon Ki Sada (Pg. 75)
    • Author : Naaz Qadri
    • مطبع : Maktaba Sadaf, Muzaffarpur (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے