نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

شاہ نصیر

نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

شاہ نصیر

MORE BYشاہ نصیر

    نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

    طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا

    دکھا کے دست حنائی نہ خوں بہا دل کا

    کہ اور رنگ سے لوں گا میں خوں بہا دل کا

    میں طفل اشک کو مژگاں پہ دیکھ حیراں ہوں

    کہ نور دیدہ ہے یا ہے بالکا دل کا

    تو آئنے پہ نہ اپنے کر اے سکندر ناز

    کہ ہم بھی رکھتے ہیں جام جہاں نما دل کا

    بہشت پہنچے ہے زاہد! کب اس کی وسعت کو

    عجب روش کا ہے یہ باغ دل کشا دل کا

    بجا ہوں سر بہ گریباں کہ اس کے دامن تک

    نہ پہنچا آہ کبھی دست نارسا دل کا

    ترے خدنگ مژہ سے ہے یک قلم مجروح

    نہ پوچھ اے بت بدکیشں! ماجرا دل کا

    لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر

    سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

    ہزار بین کہیں کیوں نہ اہل بینائی

    کہ صاف بو قلموں ہے یہ آئنا دل کا

    بہار تجھ کو دکھائیں گے ہم بھی اے گل رو

    کسی روش سے جو غنچہ کبھی کھلا دل کا

    ظہور جلوۂ معبود ہے بہر صورت

    رکھا ہے نام بجا خانۂ خدا دل کا

    رواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول

    ترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا

    قرار و طاقت و صبر و خرد ہوئے سب گم

    تمہاری زلف میں ابتر ہے حال کیا دل کا

    کہیں گے ہم یہ سراسر جو کوئی پوچھے گا

    سواد ہند میں لوٹا ہے قافلہ دل کا

    نہ کیونکہ آہ سے خاطر نشاں ہو اب میری

    کہ تیر یہ نہیں کرتا کبھی خطا دل کا

    ہمارے داغ سے بھونرے کو کیا بھلا نسبت

    کہ وہ رفیق ہے گل کا یہ آشنا دل کا

    لگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ

    برا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY