نہ پوچھ مرگ شناسائی کا سبب کیا ہے

صدیق مجیبی

نہ پوچھ مرگ شناسائی کا سبب کیا ہے

صدیق مجیبی

MORE BY صدیق مجیبی

    نہ پوچھ مرگ شناسائی کا سبب کیا ہے

    کبھی ہمیں تھا تعلق سبھوں سے اب کیا ہے

    جہاں سکوت مسلط ہے دم بخود ہے حیات

    وہیں سے شور قیامت اٹھے عجب کیا ہے

    جو ذہن ہی میں سیاہی انڈیل دے سورج

    تو پھر تمیز کسے صبح کیا ہے شب کیا ہے

    جنم دیا ہے دکھوں نے غموں نے پالا ہے

    خدا سے پوچھئے میرا حسب نسب کیا ہے

    وہ زہر خند جو گھولے ہیں چشم و لب نے ترے

    تجھے خوشی ہو تو پوچھیں کہ زیر لب کیا ہے

    اٹھے ہیں ہاتھ تو اپنے کرم کی لاج بچا

    وگرنہ میری دعا کیا مری طلب کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites