Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نام جانے کا نہ لو قلب کے کاشانے سے

عاشق حسین بزم آفندی

نام جانے کا نہ لو قلب کے کاشانے سے

عاشق حسین بزم آفندی

MORE BYعاشق حسین بزم آفندی

    نام جانے کا نہ لو قلب کے کاشانے سے

    میں تو لٹ جاؤں گا اس گھر کے اجڑ جانے سے

    غیظ ہے بزم کے اندر جو چلے آنے سے

    کچھ میں باہر بھی نہیں آپ کے فرمانے سے

    صاف ظاہر ہے یہ قلقل کی صدا آنے سے

    گفتگو ہوتی ہے کچھ شیشہ و پیمانے سے

    شمع رو تک وہی لے جائے گا نامہ میرا

    ہاں اگر کام یہ نکلے گا تو پروانے سے

    سب یہ تھی خال رخ یار کی کارستانی

    مرغ دل پھانس لیا زلف نے اس دانے سے

    ترک مے کے لئے زاہد تو مرا مغز نہ کھا

    اور ضد ہوتی ہے انسان کو سمجھانے سے

    غیر سے تم کو تعلق نہیں کچھ یہ سچ ہے

    شک مگر بڑھتا ہے ہر بار قسم کھانے سے

    عشوہ و غمزہ و انداز ہی جب کھنچ نہ سکے

    مدعا یار کی تصویر کے کھینچوانے سے

    خواب مرگ آنکھ میں آتے ہی گئی بے چینی

    جی گیا تیغ کے دامن کی ہوا کھانے سے

    کس کے گھر جانے کو تیار وہ ہوتے ہیں کہ آج

    ان کو فرصت ہی نہیں آئینہ و شانے سے

    کشت وحشت پہ جو وہ آب کرم برسائے

    شاخیں نکلیں ابھی زنجیر کے ہر دانے سے

    قدرتی حسن کا خاکہ کہیں اڑ سکتا ہے

    کیوں کشیدہ ہیں وہ تصویر کے کھینچوانے سے

    بزمؔ واں دل کے بہلنے کی کوئی شکل نہیں

    جائیں کعبہ کو کس امید پہ بت خانے سے

    مأخذ :
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے