Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نوچ کر پھینک دو بالوں میں لگائے ہوئے پھول

اقبال راہی

نوچ کر پھینک دو بالوں میں لگائے ہوئے پھول

اقبال راہی

نوچ کر پھینک دو بالوں میں لگائے ہوئے پھول

کام کے رہتے نہیں کام میں لائے ہوئے پھول

میں اسی سوچ میں گم بیٹھا ہوں ساحل کے قریب

کہاں ٹھہریں گے سمندر میں بہائے ہوئے پھول

اس قدر گہرا تعلق ہے مرا خوشبو سے

سر پہ رکھ لیتا ہوں پاؤں تلے آئے ہوئے پھول

ایک باریک سے کمرے میں بسیرا ہے مرا

کہاں رکھوں گا ترے ہاتھ کے لائے ہوئے پھول

یہ ہوا ان سے ملاقات کا نقصان مجھے

میرے ہاتھوں سے نکلتے ہی پرائے ہوئے پھول

وہ مرے پاس سے گزرے ہیں بچا کر نظریں

اور میں رہ گیا ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پھول

جب وہ یاد آتے ہیں ساون کے دنوں میں راہیؔ

چوم لیتا ہوں میں بارش میں نہائے ہوئے پھول

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے