پھر شباب و شعر کا چرچا ہوا
ایک جشن زندگی برپا ہوا
کاروبار زندگی پھیلا ہوا
عمر کم اور وقت ہے اڑتا ہوا
اشک ہائے غم کی طغیانی نہ پوچھ
جیسے دریا جوش پر آیا ہوا
آتش غم سے پھٹا جاتا ہے دل
پر نظر آتا نہیں جلتا ہوا
جان کر بھی میری آمد کا سبب
پوچھتے ہو کس لئے آنا ہوا
سر بہ سجدہ ہیں خدا کے سامنے
زلف جاناں میں ہے دل اٹکا ہوا
دل میں ہنگامے تمناؤں کے ہیں
غم ہٹا ان کا کہ سناٹا ہوا
غالباً امید افزا ہے جواب
ہے لفافہ عطر سے مہکا ہوا
ان کو منزل پر پہنچنے کا یقیں
راہبر جن کا ہے خود بھٹکا ہوا
تنگ ظرفوں کو لبالب جام مے
رند اک اک بوند کو ترسا ہوا
کر گیا یہ کون خود کو سر بلند
کس کا سر ہے دار پر لٹکا ہوا
جس جگہ بھی آپ نے رکھا قدم
اک نیا فتنہ وہاں پیدا ہوا
ظالمان وقت نے دیکھا نہیں
خشمگیں آنکھوں میں خون آیا ہوا
ہو رہا ہے نوک خنجر سے رقم
ہر فسانہ خون میں ڈوبا ہوا
دیکھ وہ ہے مرد میدان حیات
جی رہا ہے موت سے لڑتا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.