یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

آنس معین

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

آنس معین

MORE BY آنس معین

    یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

    دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور

    کیا پھر یوں ہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی

    کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور

    انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے

    خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

    تب ہوگی خبر کتنی ہے رفتار تغیر

    جب شام ڈھلے لوٹ کے آئے گا کوئی اور

    امید سحر بھی تو وراثت میں ہے شامل

    شاید کہ دیا اب کے جلائے گا کوئی اور

    کب بار تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا

    یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور

    اس بار ہوں دشمن کی رسائی سے بہت دور

    اس بار مگر زخم لگائے گا کوئی اور

    شامل پس پردہ بھی ہیں اس کھیل میں کچھ لوگ

    بولے گا کوئی ہونٹ ہلائے گا کوئی اور

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور نعمان شوق

    مآخذ:

    • کتاب : Muallim-e-urdu(Lucknow) (Pg. 32)
    • Author : Izhar Ahmad
    • مطبع : Published by Izhar ahmad Editor,and publisher at the Shagufta printers Lucknow & Distributed simmam Publication 499/129 Hasanganj lucknow-226020 (February-1992)
    • اشاعت : February-1992

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY