پر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

مہیش چندر نقش

پر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

مہیش چندر نقش

MORE BYمہیش چندر نقش

    پر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    ہاں ان کے نظاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    طوفان کا شیوہ تو ہے کشتی کو ڈبونا

    خاموش کناروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی

    ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    کس طرح کریں تجھ سے گلہ تیرے ستم کا

    مدہوش اشاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    مانا کہ تھی غمگین کلی خوف خزاں سے

    چپ رہ کے بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    اغیار کا شکوہ نہیں اس عہد ہوس میں

    اک عمر کے یاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    یہ دور محبت بھی عجب دور ہے اس میں

    اے نقشؔ سہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY