Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے

صفدر مرزا پوری

پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے

صفدر مرزا پوری

پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے

آج مجھ پر یہ عنایت کیا ہے

کیا کہوں رنگ طبیعت کیا ہے

ایک آفت ہے محبت کیا ہے

ذبح کرتے ہو جو منہ پھیر کے تم

ایسی بھی میری مروت کیا ہے

جس میں تم خوش اسی میں میں خوش ہوں

رنج کیا چیز ہے راحت کیا ہے

بولتی ہی نہیں تصویر تری

پھر مرے جینے کی صورت کیا ہے

کسی آوارہ وطن سے پوچھو

مہرباں واریٔ غربت کیا ہے

ذبح کے وقت رکا بھی خنجر

یہ نہ پوچھا تری حسرت کیا ہے

عمر گزری اسی کے کوچے میں

ہم سے پوچھو کہ محبت کیا ہے

مے ہو سبزہ ہو گھٹا ہو تم ہو

اس سے اچھی مجھے جنت کیا ہے

غیر سے وعدہ لحد پر میری

یہ قیامت سر تربت کیا ہے

یہ تو ہے عین محبت اے دل

ان کے شکوے کی شکایت کیا ہے

شیخ جی روزہ تو دن میں ہوگا

شب کو پینے میں قباحت کیا ہے

مجھ سے کہتی ہے یہ وحشت میری

گھر میں رہنے کی ضرورت کیا ہے

بھول کر بھی نہ کبھی یہ پوچھا

حال بیمار محبت کیا ہے

ہم نے خود پینے سے توبہ کر لی

شیخ صاحب کی کرامت کیا ہے

سجدے کرتا ہوں در جاناں پر

اور آئین محبت کیا ہے

ذکر مے اور جناب واعظ

نہیں معلوم کہ نیت کیا ہے

ایک ٹھوکر سے اٹھی ہے سو بار

آپ کے آگے قیامت کیا ہے

جان ہی لے کے ٹلے گی صفدرؔ

اک بلا ہے شب فرقت کیا ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے