قبر پر باد فنا آئیے گا

وزیر علی صبا لکھنؤی

قبر پر باد فنا آئیے گا

وزیر علی صبا لکھنؤی

MORE BYوزیر علی صبا لکھنؤی

    قبر پر باد فنا آئیے گا

    بے محل پاؤں نہ پھیلائیے گا

    لاکھ ہو وصل کا وعدہ لیکن

    وقت پر صاف نکل جائیے گا

    جائیں دم بھر کو تو فرماتے ہیں

    چھاؤنی تو نہ کہیں چھائیے گا

    سر ہوئے اس کے ملمع سے نہ آپ

    زلف مشکیں سے خطا پائیے گا

    نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا

    بے وفا آپ ہی کہلائیے گا

    اٹھ گیا دل سے دوئی کا پردا

    چھپ کے اب آپ کہاں جائیے گا

    کہکشاں صاف بنے گا رستہ

    آپ توسن کو جو چمکائیے گا

    رنگ لائے گی نزاکت بڑھ کر

    پھول کے بار سے پتائیے گا

    کیا کریں وصف دہن ڈرتے ہیں

    منہ میں جو آئے گا فرمائیے گا

    زلف کو ہاتھ لگائیں گے جو ہم

    بیڑیاں پاؤں میں پہنائیے گا

    دیکھیں رغبت سے تو کہتا ہے وہ شوخ

    کوئی حلوا ہے کہ کھا جائیے گا

    کیا کیا عشق نے کیوں حضرت دل

    ہم نہ کہتے تھے کہ پچھتائیے گا

    آپ چلتے تو ہیں اٹکھیلیوں سے

    کوئی آفت نہ کہیں لائیے گا

    اے صباؔ عشق پری رویاں میں

    آدمیت سے گزر جائیے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    قبر پر باد فنا آئیے گا نعمان شوق

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY