قدم بڑھاتے ہوئے بوئے بے نشاں کی طرف
قدم بڑھاتے ہوئے بوئے بے نشاں کی طرف
میں مڑ کے دیکھ نہ پایا تھا کارواں کی طرف
کسی کو خواب میں دیکھا ہے میں نے آتے ہوئے
گلاب لے کے مرے خیمۂ خزاں کی طرف
بچھا تھا تخت شب تیرہ جس کے آنگن میں
دیا روانہ کیا میں نے اس مکاں کی طرف
کھلا ہوا تھا گل انتظار ساحل پر
اور اک نگاہ تجسس تھی بادباں کی طرف
نظر رہین گل نو شگفتہ تھی راشدؔ
میں کیسے دیکھتا اس وقت باغباں کی طرف
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.