قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلے
قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلے
پابند ہوں پیدائش زنجیر سے پہلے
سرگشتہ ہوں دور فلک پیر سے پہلے
گردش میں ہوں میں گردش تقدیر سے پہلے
کیا لاتی ہے تیری نگہ قہر کا مژدہ
دوڑے ہوئے آتی ہے اجل تیر سے پہلے
نالوں سے انہیں ہوتی ہے نفرت عوض لطف
تقدیر بگڑ جاتی ہے تدبیر سے پہلے
مارا ہے مجھے خنجر ابرو سے کسی نے
نہلائیو آب دم شمشیر سے پہلے
گھر سے ترے دیوانے نے جب پاؤں نکالا
چھالوں نے قدم لے لئے زنجیر سے پہلے
کس طرح کہوں آپ کے ہونٹوں کی حلاوت
لب بند ہوئے جاتے ہیں تقریر سے پہلے
پابند غم زلف کا مرنا نہ چھپے گا
پہنچے گی خبر نالۂ زنجیر سے پہلے
کس حوصلہ پر طالب دیدار ہے عالم
آنکھیں تو لڑا لے کوئی تصویر سے پہلے
بے تاب ہوئے یار کی چٹکی سے نکل کر
تیر آپ تڑپنے لگے نخچیر سے پہلے
پانے کی نہیں دل کا ٹھکانا خلش غم
جب تک نہ پتا پوچھے ترے تیر سے پہلے
گھبرانے سے کیا کام منیرؔ جگر افکار
تو عرض تو کر حضرت شبیر سے پہلے
- Muntakhabul-Alam
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.