قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

خواجہ میر درد

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

خواجہ میر درد

MORE BYخواجہ میر درد

    قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

    پر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا

    رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور

    شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

    ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن

    میں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا

    باوجودے کہ پر و بال نہ تھے آدم کے

    وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

    پرورش غم کی ترے یاں تئیں تو کی دیکھا

    کوئی بھی داغ تھا سینے میں کہ ناسور نہ تھا

    محتسب آج تو مے خانے میں تیرے ہاتھوں

    دل نہ تھا کوئی کہ شیشے کی طرح چور نہ تھا

    دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا

    اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY