Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے

مظفر علی سید

قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے

مظفر علی سید

MORE BYمظفر علی سید

    قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے

    قید صدف میں مثل گہر رقص کیجیے

    کیجے فسردگیٔ طبیعت کا کچھ علاج

    اس خاکداں میں مثل شرر رقص کیجیے

    اک نوجواں نے آج بزرگوں سے کہہ دیا

    ہوتی نہیں جو عمر بسر رقص کیجیے

    سوجے ہیں پاؤں آنکھ سے ہی تال دیجئے

    الجھا ہوا ہے تار نظر رقص کیجیے

    گردش میں اک ستارۂ بے چارہ ہی نہیں

    ہے آسماں بھی زیر و زبر رقص کیجیے

    گزرے جو ماہ و سال تو لے بھی بدل گئی

    اب کے برس بہ رنگ دگر رقص کیجیے

    فریاد کیجیے نہ کوئی ظلم ڈھائیے

    اک وہم ہے شکست و ظفر رقص کیجیے

    اس طائفے میں ایک کمی ہے تو آپ کی

    اے دشمنان علم و ہنر رقص کیجیے

    فیشن ہے آج کل کا مداری کی ڈگڈگی

    دل چاہے یا نہ چاہے مگر رقص کیجیے

    اپنی تو جھونپڑی میں تھرکتا نہیں چراغ

    جا کر کسی رقیب کے گھر رقص کیجیے

    سیدؔ نہ ریڈیو نہ سنیما ہے آپ کا

    اپنے ہی گیت گائیے اور رقص کیجیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے