قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے
سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے
وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے
سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا
شتر سوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے
چمن زاروں میں خیمہ زن تھے صحراؤں کے باسی
ہرے منظر نگاہوں میں اتارے جا رہے تھے
سبھی تالاب پھولوں اور کرنوں سے بھرا تھا
بدن خوش رنگ پانی سے نکھارے جا رہے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.