رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے
رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے
روشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہو گئے
آنگنوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں خواہشیں
ہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہو گئے
بھیڑ میں گم ہو گئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کر
منفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہو گئے
زندہ رہنے کے لئے کچھ بے حسی درکار تھی
سوچتے رہنے سے بھی کچھ زخم گہرے ہو گئے
اس لئے محتاط ہوں اپنی نموداری سے میں
پھل تو پھل مجھ پیڑ کے پتے بھی میٹھے ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.