رکھ دیا ہے مری دہلیز پہ پتھر کس نے

حمید الماس

رکھ دیا ہے مری دہلیز پہ پتھر کس نے

حمید الماس

MORE BY حمید الماس

    رکھ دیا ہے مری دہلیز پہ پتھر کس نے

    اور پھر بھیجے ہیں آسیب کے لشکر کس نے

    شجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئی

    اس قرینے سے سجایا ہے یہ منظر کس نے

    کشتیاں کیسے نکل پائیں گی گیلی تہہ سے

    پی لیا چند ہی سانسوں میں سمندر کس نے

    پیشوائی کے لیے بنت صبا آئی ہے

    پا شکستہ ہوں بنایا ہے قد آور کس نے

    میری بستی بھی ہوئی شعلہ زنی میں شامل

    لا کے چھوڑے ہیں یہاں آگ کے پیکر کس نے

    مآخذ:

    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 438)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY