ردائیں چلیں خاک دانوں کی جانب

جینا قریشی

ردائیں چلیں خاک دانوں کی جانب

جینا قریشی

MORE BYجینا قریشی

    ردائیں چلیں خاک دانوں کی جانب

    وفائیں کھلے سر دکانوں کی جانب

    ترے ہر ستم پر یوں ہی بے ارادہ

    نظر اٹھ گئی آسمانوں کی جانب

    عجب ہے یہ کار سخن شعر گوئی

    دھکیلے ہے رطب اللسانوں کی جانب

    نظر سرسرائی بدن پر یوں میرے

    بڑھے سانپ جیسے خزانوں کی جانب

    مرا عشق کہتا ہے مجھ سے کہ آ جا

    تجھے لے چلوں میں اڑانوں کی جانب

    ابھی طفل مکتب ہوں اور نا اہل بھی

    کدھر لے چلے امتحانوں کی جانب

    شب تار کچا گھڑا ایک دریا

    میں بڑھنے لگی داستانوں کی جانب

    تو ملبے سے میرے ہی تعمیر ہوگا

    گرا کے مجھے بڑھ مکانوں کی جانب

    میری راہ چننا کہ اب میں رواں ہوں

    وفاؤں کے روشن نشانوں کی جانب

    یہ ناد علی کا عجب معجزہ تھا

    سبھی تیر پلٹے کمانوں کی جانب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY