رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے

خلیل تنویر

رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے

خلیل تنویر

MORE BY خلیل تنویر

    رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے

    حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے

    کل تک جہاں میں جن کو کوئی پوچھتا نہ تھا

    اس شہر بے چراغ میں وہ معتبر ہوئے

    بڑھنے لگی ہیں اور زمانوں کی دوریاں

    یوں فاصلے تو آج بہت مختصر ہوئے

    دل کے مکاں سے خوف کے سائے نہ چھٹ سکے

    رستے تو دور دور تلک بے خطر ہوئے

    اب کے سفر میں درد کے پہلو عجیب ہیں

    جو لوگ ہم خیال نہ تھے ہم سفر ہوئے

    بدلا جو رنگ وقت نے منظر بدل گئے

    آہن مثال لوگ بھی زیر و زبر ہوئے

    مآخذ:

    • Book: Gil-e-Lajvard (Pg. 120)
    • Author: Khaleel Tanveer
    • مطبع: Al-asr Publications, Ahmedabad (2005)
    • اشاعت: 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites