سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

کیف احمد صدیقی

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

کیف احمد صدیقی

MORE BY کیف احمد صدیقی

    سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

    شام کی آغوش میں سورج بھی تھک کر سو گیا

    آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاں

    چند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا

    یہ سکوت شام یہ ہنگامۂ ذہن بشر

    روح ہے بے دار لیکن جسم تھک کر سو گیا

    آخر اس دور پر آشوب کا ہر آدمی

    خواب مستقبل کے جنگل میں بھٹک کر سو گیا

    چند دن گلشن میں نغمات مسرت چھیڑ کر

    شاخ غم پر روح کا پنچھی چہک کر سو گیا

    آخرش سارے چمن کو دے کے حسن زندگی

    موت کے بستر پہ ہر غنچہ مہک کر سو گیا

    زندگی بھر اب اندھیری رات میں ہے جاگنا

    اب تو قسمت کا ستارہ بھی چمک کر سو گیا

    پیکر الفاظ میں اک آگ دہکاتا ہوا

    کاغذی صحرا میں اک شعلہ بھڑک کر سو گیا

    کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی

    جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا

    مآخذ:

    • Book : shab khuun (45) (rekhta website) (Pg. 63)
    • اشاعت : 1970

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY