سایہ مرا بن جائے مرے ساتھ رہے وہ
سایہ مرا بن جائے مرے ساتھ رہے وہ
میں خود سے کروں بات تو چاہوں کہ سنے وہ
خاکہ ہوں تو پھر میری کوئی شکل ابھارے
تصویر ہوں تو مجھ میں کوئی رنگ بھرے وہ
آ جائے تو تنہائی کے اس شیلف سے نکلوں
کھل جاؤں کتابوں کی طرح اور پڑھے وہ
وہ خواب تھا جب تک تو رہا پھول کی صورت
اب ٹوٹ کے ہر پل مری آنکھوں میں چبھے وہ
میں شمعؔ کہاں اب بھی انہیں بھول سکی ہوں
لوگوں نے بتایا ہے مجھے بھول گئے وہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.