Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھ

جے کرشن چودھری حبیب

سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھ

جے کرشن چودھری حبیب

MORE BYجے کرشن چودھری حبیب

    سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھ

    صبحیں چھپی ہیں پردے میں ہر تیرگی کے ساتھ

    آسان کر دی تیرے تصور نے منزلیں

    گزرے رہ حیات سے ہم بے خودی کے ساتھ

    سجدے دل و نظر کے تو ہر جا بکھر گئے

    دیر و حرم کا کام ہی کیا بندگی کے ساتھ

    اک درد تھا کہ بزم سے لے کر تیری چلے

    دل یاں کہ واں لٹا کے چلے ہم خوشی کے ساتھ

    تیری نگاہ ناز کے قربان جائیے

    لپکا ہے دل میں شعلہ مگر دل کشی کے ساتھ

    تیری طلب میں دار و رسن سے گزر گئے

    کھیلا ہے ہم نے کھیل کوئی زندگی کے ساتھ

    ساغر میں اپنی آنکھوں کی مستی بھی گھول دے

    مے بھی دو آتشاں ہو تری دلبری کے ساتھ

    فتنے سے کم نہیں ہے بگڑنا ترا مگر

    نکھرا ہے حسن اور بھی کچھ برہمی کے ساتھ

    اپنا بنا کے یوں مجھے چھوڑا ہے راہ میں

    دو گام جیسے کوئی چلے اجنبی کے ساتھ

    اے شکوہ سنج تیرا ہی دامن نہیں وسیع

    کیا نعمتیں حبیبؔ ملیں زندگی کے ساتھ

    مأخذ :
    • کتاب : نغمۂ زندگی (Pg. 71)
    • Author : جے کرشن چودھری حبیب
    • مطبع : جے کرشن چودھری حبیب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے