سفر بھی جبر ہے ناچار کرنا پڑتا ہے

اطہر ناسک

سفر بھی جبر ہے ناچار کرنا پڑتا ہے

اطہر ناسک

MORE BYاطہر ناسک

    سفر بھی جبر ہے ناچار کرنا پڑتا ہے

    عدو کو قافلہ سالار کرنا پڑتا ہے

    گلے میں ڈالنی پڑتی ہیں دھجیاں اپنی

    اور اپنی دھول کو دستار کرنا پڑتا ہے

    بنانا پڑتا ہے سوچوں میں اک محل اور پھر

    خود اپنے ہاتھ سے مسمار کرنا پڑتا ہے

    نجانے کون سی مجبوریاں ہیں جن کے لیے

    خود اپنی ذات سے انکار کرنا پڑتا ہے

    کوئی بھی مسئلہ پھر مسئلہ نہیں رہتا

    ذرا ضمیر کو بیدار کرنا پڑتا ہے

    بنانا پڑتا ہے اپنے بدن کو چھت اپنی

    اور اپنے سائے کو دیوار کرنا پڑتا ہے

    ہماری گردنیں مشروط ہیں سو ان کے لیے

    سروں کو خم سر دربار کرنا پڑتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 325)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY