سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے
سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے
کہاں تک جان پر کھیلیں جدائی دیکھنے والے
ترے بیمار غم کی اب تو نبضیں بھی نہیں ملتیں
کف افسوس ملتے ہیں کلائی دیکھنے والے
خدا سے کیوں نہ مانگیں کیوں کریں منت امیروں کی
یہ کیا دیں گے کسی کو آنہ پائی دیکھنے والے
بتوں کی چاہ بنتی ہے سبب عشق الٰہی کا
خدا کو دیکھ لیتے ہیں خدائی دیکھنے والے
مہینوں بھائی بندوں نے مرا ماتم کیا مضطرؔ
مہینوں روئے خالی چارپائی دیکھنے والے
- کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 318)
- Author : Muztar Khairabadi
- مطبع : Javed Akhtar (2015)
- اشاعت : 2015
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.