سہمی سہمی سی رہتی ہے بوڑھی ماں
سہمی سہمی سی رہتی ہے بوڑھی ماں
اپنی بات کہاں کہتی ہے بوڑھی ماں
بیٹے خوب سیانے نکلے ہیں اس کے
کیا کہنا چپ ہی رہتی ہے بوڑھی ماں
اپنے ہی گھر میں اپنوں کے بیچ یہاں
ایک پرایا پن سہتی ہے بوڑھی ماں
دودھ دہی دیتی تھی کل تک بچوں کو
آنسو اب پیتی رہتی ہے بوڑھی ماں
اپنوں سے جھڑکی طعنے سنتے سنتے
انکھیوں سے پل پل بہتی ہے بوڑھی ماں
بوجھ بنی ہے گھر میں پھر بھی بچوں کو
روز دعا دیتی رہتی ہے بوڑھی ماں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.