صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو
صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو
اور پھر اس سے سر ٹکرانا جانے کیسا ہو
یہ رستے جو ہم نے پگ پگ آپ بکھیرے ہیں
ان رستوں سے لوٹ کے جانا جانے کیسا ہو
جس کی پوریں دل کی اک اک دھڑکن گنتی ہیں
جس کو ہم نے خود گردانا جانے کیسا ہو
اس کے سامنے ہم کیا جانیں دل پر کیا گزرے
نام تک اپنا یاد نہ آنا جانے کیسا ہو
اس کی نگاہ میں آنا کوئی چھوٹی بات نہیں
اس کے دل میں راہ بھی پانا جانے کیسا ہو
ہم کیا جانیں پار لگیں یا آر رہیں خالدؔ
رہ گم کردہ مر کھپ جانا جانے کیسا ہو
- کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 532)
- Author : Ahmad Nadeem Qasmi
- مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (25Edition Nov. Dec. 1986)
- اشاعت : 25Edition Nov. Dec. 1986
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.