سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں

علامہ اقبال

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا)

    سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں

    ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں جاہل ہوں میں

    میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی

    جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

    علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست

    وائے محرومی خذف چین لب ساحل ہوں میں

    ہے مری ذلت ہی کچھ میری شرافت کی دلیل

    جس کی غفلت کو ملک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں

    بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں نہ ہو

    تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

    ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو

    آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY