سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

اقبال ساجد

سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

اقبال ساجد

MORE BYاقبال ساجد

    سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

    میں کہ پتھریلی زمیں میں پھول بو سکتا نہیں

    لگ چکے ہیں دامنوں پر جتنے رسوائی کے داغ

    ان کو آنسو کیا سمندر تک بھی دھو سکتا نہیں

    ایک دو دکھ ہوں تو پھر ان سے کروں جی بھر کے پیار

    سب کو سینے سے لگا لوں یہ تو ہو سکتا نہیں

    تیری بربادی پہ اب آنسو بہاؤں کس لیے

    میں تو خود اپنی تباہی پر بھی رو سکتا نہیں

    جس نے سمجھا ہو ہمیشہ دوستی کو کاروبار

    دوستو وہ تو کسی کا دوست ہو سکتا نہیں

    خواہشوں کی نذر کر دوں کس لیے انمول اشک

    کچے دھاگوں میں کوئی موتی پرو سکتا نہیں

    میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر

    آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

    مجھ کو اتنا بھی نہیں ہے سرخ رو ہونے کا شوق

    بے سبب تازہ لہو کی فصل بو سکتا نہیں

    یاد کے شعلوں پہ جلتا ہے اگر میرا بدن

    اوڑھ کر پھولوں کی چادر تو بھی سو سکتا نہیں

    ہاتھ جس سے کچھ نہ آئے اس کی خواہش کیوں کروں

    دودھ کی مانند میں پانی بلو سکتا نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-iqbaal saajid (Pg. 251)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY