شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں

زبیر رضوی

شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں

    صبح جب میں جاگا تھا وہ جو مجھ سے بچھڑا تھا سو رہا تھا باہوں میں

    میکدے میں سب کے سب جام ہاتھ میں لے کر دوستوں میں بیٹھے تھے

    دور لوگ مسجد میں رب کو یاد کرتے تھے دل کی بارگاہوں میں

    وہ زمیں کے شہزادے تیر اور کماں لے کر جنگلوں میں پھرتے تھے

    اک ہرن جو زخمی تھا دوڑتا ہوا آیا رادھکا کی باہوں میں

    ہم پلے چراغوں میں روشنی سے رشتہ تھا نور ہم میں رہتا تھا

    چاند لے کے وہ نکلے جن کو ہم نے دیکھا تھا ظلمتوں کی باہوں میں

    عورتوں کی آنکھوں پر کالے کالے چشمے تھے سب کی سب برہنہ تھیں

    زاہدوں نے جب دیکھا ساحلوں کا یہ منظر لکھ دیا گناہوں میں

    ہم نے عہد وسطی کے سارے تاج داروں کی یادگاریں دیکھی ہیں

    تاج سب میں یکتا ہے اور شاہجہاں تنہا سارے بادشاہوں میں

    مآخذ :
    • کتاب : Sang-ge-Sada (Pg. 259)
    • Author : Zubair Razvi
    • مطبع : Zehne Jadid, New Delhi (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY