شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا

احمد مشتاق

شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا

    ہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا

    اس اونچ نیچ پر تو ٹھہرتے نہیں تھے پاؤں

    کس دست شوق نے اسے دنیا بنا دیا

    کن مٹھیوں نے بیج بکھیرے زمین پر

    کن بارشوں نے اس کو تماشا بنا دیا

    سیراب کر دیا تری موج خرام نے

    رکھا جہاں قدم وہاں دریا بنا دیا

    اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی

    میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا

    پوچھے اگر کوئی تو اسے کیا بتاؤں میں

    دل کیا تھا، تیرے غم نے اسے کیا بنا دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY