شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

مرزا غالب

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

    یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے

    پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا

    اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

    گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھو

    شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے

    عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال

    سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے

    کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم

    آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے

    خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ

    کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے

    نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب

    لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے

    خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن

    شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے

    اے شہنشاہ کواکب سپہ و مہر علم

    تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے

    سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے

    تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے

    ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال

    آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے

    میں جو گستاخ ہوں آئین غزل خوانی میں

    یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے

    رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY