سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا

حیات لکھنوی

سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا

حیات لکھنوی

MORE BYحیات لکھنوی

    سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا

    ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا

    ایک خواہش دل کو غیر آباد کرتی جائے گی

    اک پرندہ دور تک اڑتا ہوا رہ جائے گا

    چار سو پھیلی ہوئی بے چہرگی کی دھند میں

    ایک دن بے عکس ہو کر آئنا رہ جائے گا

    ہر صدا سے بچ کے وہ احساس تنہائی میں ہے

    اپنے ہی دیوار و در میں گونجتا رہ جائے گا

    مدعا ہم اپنا کاغذ پر رقم کر جائیں گے

    وقت کے ہاتھوں میں اپنا فیصلا رہ جائے گا

    دو گھڑی کے واسطے آ کر چلے جاؤگے گےتم

    پھر مری تنہائیوں کا سلسلا رہ جائے گا

    اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ

    بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY