ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم

افتخار عارف

ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم

    پھر اس کے بعد نظر سے گرا دئے گئے ہم

    عزیز تھے ہمیں نو واردان کوچۂ عشق

    سو پیچھے ہٹتے گئے راستہ دئے گئے ہم

    شکست و فتح کے سب فیصلے ہوئے کہیں اور

    مثال مال غنیمت لٹا دئے گئے ہم

    زمین فرش گل و لالہ سے سجائی گئی

    پھر اس زمیں کی امانت بنا دئے گئے ہم

    دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

    سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئے گئے ہم

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم افتخار عارف

    مآخذ:

    • Book : Mahr-e-Do neem (Pg. 59)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY