ستاروں کی جلوہ فشانی نہیں ہے
ابھی آسماں پر جوانی نہیں ہے
یہ ہے اس کی روشن طبیعت کا حصہ
تبسم کے پیچھے کہانی نہیں ہے
اجل خوب ہنستی ہے ان بستیوں پر
جہاں لوگ ہیں زندگانی نہیں ہے
محبت کے جام و سبو توڑ بیٹھی
سیاست کی آنکھوں میں پانی نہیں ہے
تشکر کا اظہار اچھا ہے لیکن
یہ حق ہے کوئی مہربانی نہیں ہے
خلاؤں میں پرواز کیسے کرے گا
ترا حوصلہ آسمانی نہیں ہے
مرے نکتہ چینو ذرا یاد رکھنا
لغت میں مری بے زبانی نہیں ہے
سہارا لے زاہدؔ کی غزلوں کا تو بھی
اگر شام کوئی سہانی نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.