سکوں کہیں بھی نہیں بزم کامرانی میں
سکوں کہیں بھی نہیں بزم کامرانی میں
مسافتیں نہیں طے ہوتیں لا مکانی میں
دلوں میں نور ہے ترسیل گوش کر بھی ہو
پیام جاتے نہیں طرز لن ترانی میں
میں ہوں فدائے خمار علی الصباحی اب
کوئی نہ لطف بچا جام ارغوانی میں
خودی ہمیشہ مقابل رہی ہے طوفاں کی
یقین اس کو نہیں باد و بادبانی میں
غرور و زعم تجاہل تمہیں مٹا دے گا
فلک گزیدہ بہت دیکھے خوش گمانی میں
جہاں سنی تھی کبھی داستان فریادی
کوئی نفاق نشستہ ہے بے زبانی میں
کہے ہے آہنؔ دل گشتہ حرف شیریں جو
حضور ذہن سے سمجھیں گے کم لسانی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.