تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں
تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں
گھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیں
یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں
پردہ اٹھے کہ نہ اٹھے مگر اے پردہ نشیں
آج ہم رسم تکلف کو اٹھا دیتے ہیں
آتے جاتے نہیں کمبخت پیامی ان تک
جھوٹے سچے یوں ہی پیغام سنا دیتے ہیں
وائے تقدیر کہ وہ خط مجھے لکھ لکھ کے ظہیرؔ
میری تقدیر کے لکھے کو مٹا دیتے ہیں
- کتاب : غزل اس نے چھیڑی (Pg. 199)
- Author : فرحت احساس
- مطبع : ریختہ بکس بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا (2017)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.