تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

کلیم عاجز

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

کلیم عاجز

MORE BYکلیم عاجز

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

    زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں

    اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں

    ہم گدایان محبت کا یہی سب کچھ ہے

    گرچہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں

    یہ نیا طرز کرم ہے ترا اے فصل بہار

    لے لیا پاس میں جو کچھ تھا دیا کچھ بھی نہیں

    ہم کو معلوم نہ تھا پہلے یہ آئین جہاں

    اس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں

    وہی آہیں وہی آنسو کے دو قطرے عاجزؔ

    کیا تری شاعری میں ان کے سوا کچھ بھی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Jab Fasl-e-baharn aai thi (Pg. 172)
    • Author : padm Shri Dr. Kaleem Ahmed Aajiz
    • مطبع : Sunrise Plastic Works, Patna (1990)
    • اشاعت : 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY