طویل راستہ ہے ہاتھ تھام لیجئے
کہ دل کے ساتھ عقل سے بھی کام لیجئے
بہار میں خدا کو یاد کیجئے بھی کیوں
خزاں میں پر اسی کا خوب نام لیجئے
اگر دوائے درد دل ہے مجھ سے گفتگو
تو آپ اس دوا کو صبح و شام لیجئے
صنم سے چاہ میری کچھ نہ تھی بجز وفا
شباب پر کہے کہ لطف عام لیجئے
منافقوں کا فیصلہ خدا پہ چھوڑیے
معاف کیجئے نہ انتقام لیجئے
طعام بھی ہدایتوں کا پھر نہ ہو نصیب
نہ اس قدر بھی لذت حرام لیجئے
ہے جنبش زبان کا یہ ضبط جب تلک
کہ تب تلک تو نین کا پیام لیجئے
بھلے محب ہو لاکھ پر اصول یہ ہے زانؔ
کسی کا اپنے سر نہ اتہام لیجئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.