تیرے در پہ دل ناکام لئے بیٹھے ہیں
تیرے در پہ دل ناکام لئے بیٹھے ہیں
میکدہ بند ہے اور جام لئے بیٹھے ہیں
یہ ہیں دیوانے بھلا سجدوں کا موقع دیں گے
ہم کہاں حسرت الزام لئے بیٹھے ہیں
غم نہیں اس کا جو طوفان ڈبو دے مجھ کو
اہل ساحل مرا پیغام لئے بیٹھے ہیں
تیز رو جادۂ بے نام سے آگے پہونچے
اور منزل کو سبک گام لئے بیٹھے ہیں
کیوں وصیؔ ان کے لبوں پر ہے سکوت پیہم
دل میں جو حشر کا ہنگام لئے بیٹھے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.