تیری صورت سے نہیں تجھ سے محبت ہوئی ہے
تیری صورت سے نہیں تجھ سے محبت ہوئی ہے
شدت ضبط میں جو حالت وحشت ہوئی ہے
میرے اطراف میں جو پھول کھلے ہیں مرے دوست
تیرے ہونے سے ہی تو ان میں یہ رنگت ہوئی ہے
عرصۂ ہجر میں اے ٹوٹ کے رونے والے
اس سے پہلے بھی کبھی تیری یہ حالت ہوئی ہے
پیاس اتنی ہے کہ ہلکان ہوا جاتا ہوں
مجھ کو تجھ سے نہیں دریا سے شکایت ہوئی ہے
شہر کا شہر جو گلیوں میں امڈ آیا تھا
ایسے لگتا تھا یہاں کوئی بغاوت ہوئی ہے
دل دھڑکنے کا سبب پوچھ رہے ہو تو سنو
تیری آمد ہی مجھے وجہ مسرت ہوئی ہے
میں خدا کی طرح شہزادؔ اسے چاہتا ہوں
اس لیے میری محبت بھی عبادت ہوئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.