تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

انجم عرفانی

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

    جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

    سایہ ہے پیار کا نہ محبت کی دھوپ ہے

    دیوار کے حصار کو گھر کہہ دیا گیا

    ان کے ہر ایک گوشے میں صدیاں مقیم ہیں

    ٹوٹی عمارتوں کو کھنڈر کہہ دیا گیا

    خودداریٔ انا ہے نہ پندار زیست ہے

    شانوں کے سارے بوجھ کو سر کہہ دیا گیا

    آنگن میں ہر مکاں کے اندھیروں کا راج ہے

    محلوں کی روشنی کو سحر کہہ دیا گیا

    کچھ خوف جاں ہے اور نہ کچھ فکر ہجر یار

    خوش گامیوں کو رنج سفر کہہ دیا گیا

    حیرت دروغ مصلحت آمیز پر ہو کیا

    بے برگ جھاڑیوں کو شجر کہہ دیا گیا

    دیکھا کہاں ہے آگ کے دریاؤں کا سفر

    جگنو اڑے تو رقص شرر کہہ دیا گیا

    کچھ احترام و حسن عقیدت کے جوش میں

    ہر نقش آب نقش حجر کہہ دیا گیا

    کھل جائے گا بھرم تری میزان عدل کا

    دو ایک حرف جرم اگر کہہ دیا گیا

    نا آشنائے نقش کف پائے عام ہے

    وہ راستہ بھی راہ گزر کہہ دیا گیا

    یوں خوش ہیں جیسے واقعتاً ہو گئے خدا

    مجبوریوں کے زیر اثر کہہ دیا گیا

    انجمؔ یہاں تک آنے میں کیا کیا گزر گئی

    مہر سر مژہ بھی گہر کہہ دیا گیا

    مآخذ :
    • کتاب : Libas-e-zakhm (Pg. 99)
    • Author : Badruddin Ahmed Khan
    • مطبع : Anjum Irfani (1984)
    • اشاعت : 1984

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY