ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیا
ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیا
مال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیا
مغربی تہذیب کا حملہ ہوا کچھ اس طرح
سر سے ٹوپی اور پھر چہرے سے داڑھی لے گیا
میں تھا محو شوق اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں
کوئی اپنے ساتھ میری ریل گاڑی لے گیا
دوسرے کھیلوں میں لڑکے جوتیاں گھستے رہے
سارا پیسہ ایک کرکٹ کا کھلاڑی لے گیا
ٹال کر بہنوں کو اگلی عید کے وعدے پہ وہ
اپنی بیوی کے لئے ریشم کی ساڑی لے گیا
میرؔ و غالبؔ دفتر اردو میں ننگے ہو گئے
کوڑیوں کے بھاؤ میں سب کو کباڑی لے گیا
مہنگے انجکشن دوا کی گولیاں اور بوتلیں
مختصر سا زخم دو دن کی دہاڑی لے گیا
میں کھڑا تکتا رہا دیدارؔ حسرت سے انہیں
فیملی کو لنچ پہ جب مارواڑی لے گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.