Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیا

دیدار بستوی

ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیا

دیدار بستوی

MORE BYدیدار بستوی

    ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیا

    مال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیا

    مغربی تہذیب کا حملہ ہوا کچھ اس طرح

    سر سے ٹوپی اور پھر چہرے سے داڑھی لے گیا

    میں تھا محو شوق اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں

    کوئی اپنے ساتھ میری ریل گاڑی لے گیا

    دوسرے کھیلوں میں لڑکے جوتیاں گھستے رہے

    سارا پیسہ ایک کرکٹ کا کھلاڑی لے گیا

    ٹال کر بہنوں کو اگلی عید کے وعدے پہ وہ

    اپنی بیوی کے لئے ریشم کی ساڑی لے گیا

    میرؔ و غالبؔ دفتر اردو میں ننگے ہو گئے

    کوڑیوں کے بھاؤ میں سب کو کباڑی لے گیا

    مہنگے انجکشن دوا کی گولیاں اور بوتلیں

    مختصر سا زخم دو دن کی دہاڑی لے گیا

    میں کھڑا تکتا رہا دیدارؔ حسرت سے انہیں

    فیملی کو لنچ پہ جب مارواڑی لے گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے