تیر و کماں کے ساتھ نہ تیغ و تبر کے ساتھ
تیر و کماں کے ساتھ نہ تیغ و تبر کے ساتھ
ہم جنگ خالی ہاتھ لڑے ہیں جگر کے ساتھ
دل بھی اداس اداس ہے دیوار و در کے ساتھ
لپٹی ہیں آرزوئیں تری رہ گزر کے ساتھ
منسوب تیری یاد ہے دیوار و در کے ساتھ
پھر کیوں نہ ہو لگاؤ مجھے اپنے گھر کے ساتھ
بولی کوئی لگائے تو مہر و خلوص کی
ہم خود کو بیچ دیں گے متاع ہنر کے ساتھ
اب دیکھیے وہ آئیں گے یا موت آئے گی
باندھی ہے دل نے شرط چراغ سحر کے ساتھ
غصے سے لال ہو گیا سورج یہ دیکھ کر
شبنم الجھ رہی تھی نسیم سحر کے ساتھ
مشکل میں جب پڑو گے تو خود جان جاؤ گے
احباب پیش آتے ہیں کس کس ہنر کے ساتھ
ساحل پہ دم بخود تھی تماشائیوں کی بھیڑ
کشتی ہماری کھیل رہی تھی بھنور کے ساتھ
آگے کسی کے ہاتھ پسارا نہیں کبھی
رہتے ہیں مفلسی میں بھی ہم کر و فر کے ساتھ
سچائی سامنے نہیں آتی عوام کے
ہوتی ہے چھیڑ چھاڑ ہمیشہ خبر کے ساتھ
آساں نہیں ہے معرکۂ زندگی شکیلؔ
دستار بھی سنبھالنی پڑتی ہے سر کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.