تری نظر میں ترے دل میں گھر کیا جائے
تری نظر میں ترے دل میں گھر کیا جائے
اب اس خیال ہی کو درگزر کیا جائے
علاوہ عشق کے ہے ہی نہیں زمانے میں
کوئی بھی کام جسے عمر بھر کیا جائے
جو وجہ شعر تھی وہ نظم ہو چکی کب کی
مرے خیال تجھے کس کے سر کیا جائے
نگاہ غیر سے بھی دیکھنا کبھی خود کو
یہ کام سخت بہت ہے مگر کیا جائے
خبر میں کوئی بھی رکھتا نہیں ہوں اب اس کی
اب اس خبر سے اسے باخبر کیا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.