تمہیں ہمارے ہی دوستوں کی جو صف سے امداد مل رہی ہے
تمہیں ہمارے ہی دوستوں کی جو صف سے امداد مل رہی ہے
تبھی نشانہ خطا نہیں ہے ہدف سے امداد مل رہی ہے
تمہاری ان جھوٹی عظمتوں کو حقیقی عزت نہیں ملے گی
تمہاری دستار کی اکڑ کو کلف سے امداد مل رہی ہے
کبھی کوئی اپنے نرم ہاتھوں سے میرے اشکوں کو پونچھتا تھا
اور آج کل یہ قمیض کے گیلے کف سے امداد مل رہی ہے
ہم ایسے صحرا میں گانے والے کسی سے کیا سر ملا سکیں گے
تمھارے نغموں کی میٹھی لے کو تو دف سے امداد مل رہی ہے
تمہاری ہم سے زباں درازی تمہاری ہم کو یہ طعنہ بازی
ہمارے دشمن کو یہ تمہاری طرف سے امداد مل رہی ہے
غرور طاقت پہ کرنے والو ہمارا تم کیا بگاڑ لو گے
ہم اہل حق ہیں سو ہم کو نیرؔ نجف سے امداد مل رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.