Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا

ریاضؔ خیرآبادی

اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا

ریاضؔ خیرآبادی

MORE BYریاضؔ خیرآبادی

    اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا

    کل بام پر تھے آج ہے قصد آسمان کا

    رونا لکھا نصیب میں ہے اپنی جان کا

    شکوا نہ آپ کا نہ گلا آسمان کا

    بازار میں بھی چلتے ہیں کوٹھوں کو دیکھتے

    سودا خریدتے ہیں تو اونچی دکان کا

    یہ بھی خدا کی شان ہم اب ایسے ہو گئے

    سایا بھی بھاگتا ہے تمہارے مکان کا

    کیوں غم نصیب دل کو برا کہہ رہے ہو تم

    کیوں صبر لے رہے ہو کسی بے زبان کا

    واعظ شراب خانے میں کھولے گا کیا زباں

    ہم خوب جانتے ہیں وہ ٹرا ہے تھان کا

    ہم جام مے کے بھی لب تر چوستے نہیں

    چسکا پڑا ہوا ہے تمہاری زبان کا

    میں دل کی واردات تو کہنے کو کہہ چلوں

    کس کو یقین آئے گا میرے بیان کا

    یہ تو کہا تجھے ہو لہو تھوکنا نصیب

    تم نے کبھی دیا کوئی ٹکڑا بھی پان کا

    میں جاؤں یا نہ جاؤں انہیں لے کے بام پر

    بدلا ہوا ہے رنگ بہت آسمان کا

    افسانہ تم نے قیس کا شاید سنا نہیں

    ٹکڑا ہے ایک وہ بھی مری داستان کا

    اب کوئی سینہ چیر کے رکھ لے کہ دل بنائے

    آویزہ گر پڑا ہے کوئی ان کے کان کا

    آیا جو غیر لطف بہت دیر تک رہا

    بدلا تھا میں نے بھیس ترے پاسبان کا

    دنیا کی پڑ رہی ہیں نگاہیں ریاضؔ پر

    کس وضع کا جوان ہے کس آن بان کا

    مأخذ :
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے