عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

آزاد گلاٹی

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

    پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر

    چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا

    فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر

    رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر

    تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر

    شام آئی اور سب شاخوں کی گلیاں سو گئیں

    موت کا سایا سا منڈلانے لگا اشجار پر

    خلوت شب میں یہ اکثر سوچتا کیوں ہوں کہ چاند

    نور کا بوسہ ہے گویا رات کے رخسار پر

    سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں

    کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر

    زندگی آزاد پہلے یوں کبھی تنہا نہ تھی

    آدمی بہتا تھا یوں ہی وقت کی رفتار پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY