اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا
اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا
وہاں رک جانا وہاں رہ جانا وہاں سکھ کا اجالا آئے گا
یہ سوچ کے اٹھنا ہر دن تم اس دل کا پھول کھلے گا ضرور
اس آس پہ سونا اب کی شب کوئی خواب نرالا آئے گا
جب اس کے ہاتھ نیا ماضی اس صفحۂ ارض پہ لکھیں گے
جب سحر و شام رقم ہوں گے تب میرا حوالہ آئے گا
اس بے اندیشہ صحرا میں اس اونگھنے والی امت پر
کب جاگنے والا اترے گا کب سوچنے والا آئے گا
پھر روحیں زخمی زخمی ہیں پھر کوڑھ سے دکھنے آئے بدن
یوں لگتا ہے کہ شفاعت کو پھر کوئی گوالا آئے گا
اے راہ سخن کے راہروو دل شاد رہو اس راہ میں بھی
خوشبو کی سواری ٹھہرے گی رنگوں کا پیالہ آئے گا
- کتاب : siip-volume-47 (Pg. 47)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.