اس کی یاد کا عطر لگا کر نکلا تھا
کیا سودا میں سر میں لے کر نکلا تھا
صبح کے سورج کا چہرہ تھا رخشندہ
رات کے خوں کا غازہ مل کر نکلا تھا
جانے کیوں اپنے کو شیشہ جانا پھر
خود ہی ہاتھ میں سنگ اٹھا کر نکلا تھا
اس نے راہ کے سارے پتھر توڑ دئے
وہ جو پہلی ٹھوکر کھا کر نکلا تھا
رنگینی اور خوشبو مجھ پر قرباں تھی
اس کا قصیدہ جب میں پڑھ کر نکلا تھا
جانے انساں نے کیا سوچا ہوگا جب
سورج پہلی بار فلک پر نکلا تھا
دور خزاں کے ختم کا یوں اعلان ہوا
تازہ پتا شاخ شجر پر نکلا تھا
- کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 132)
- مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.